غسل جنابت کے لیےچوٹی کا کھولنا 

سوال : غسل جنابت میں عورت کا چوٹی کھولنا ضروری ہے؟

جواب : غسل کرتے وقت اگر سر کے بال کھلے ہوں تو فرض غسل میں تمام بالوں کو تر کرنا اور جڑوں تک پانی پہنچانا فرض ہے- اگر چوٹی باندھ رکھی ہو تو گوندھے ہوئے بالوں کو کھولنا ضروری نہیں، صرف جڑوں کو تر کرنا فرض ہے-البتہ اگر بالوں کو کھولے بغیر جڑوں تک پانی پہنچانا مشکل ہو تو سارے بالوں کو کھول کر دھونا ضروری ہوگا –

=========================

حوالہ جات :

1 : عن ام سلمۃ قالت : قلتُ : یا رسول اللہ ﷺ انِّی امرأۃٌ اشدُّ ضَفرَ رَأسِی، فاَنقُضُہُ لِغُسلِ الجَنابَۃِ قَالَ : لاَ اِنَّمَا یَکفِیکِ اَن تَحثِیَ علٰی رَأسِکِ ثلاثٍ حَیثَاتٍ ثُمَّ تُفِیضِینَ عَلَیکِ الماءَ فَتَطھُرِینَ ۰

( مسلم شریف : 1/300، حدیث : 652 )

ترجمہ : حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے-فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا یا رسول ﷺ میں اپنے مینڈھیوں کو سخت کرکے باندھتی ہوں، تو کیا میں غسل جنابت کے لیے ان کو کھولوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں, بلکہ تیرے لیے تین چلو پانی ڈالنا کافی ہے- پھر اپنے اوپر پانی بہا کر پاک ہوجاؤ –

2 : ولَیسَ عَلی المَرَأۃِ اَن تَنقُضَ ضَفائِرِھَا فِی الغُسلِ اذَا بَلغَ المَاءُ اُصُولَ الشعرِ ولَیسَ عَلیھَا بَل ذَوَائِبھَا ھُو الصَحیحُ، کذا فی الھدایہ ۰

( فتاویٰ ھندیہ : 1/13 )

3 : ( قولہ : ولا تنقض ضفیرۃ ان بل اصلھا ) ای ولا یجب علی المرأۃ ان تنقض ضفیرتھا ان بلت فی الاغتسال اصل شعرھا والضفیرۃ بالضاد المعجمۃ الذؤابۃ من الضفر وھو فتل الشعر وادخال بعضہ فی بعض، ولا یقال بالظاء والاصل فیہ ما رواہ مسلم وغیرہ ۰

( بحر الرائق : 1/54 )

واللہ اعلم بالصواب

11/11/21

اپنا تبصرہ بھیجیں