نفرتوں کا خاتمہ … اہل علم سے چند گزارشات

مفتی انس عبدالرحیم

www.suffahpk.com

اہل علم کے فضائل:

علم اور اہل علم کے فضائل بے شمار ہیں۔ قرآن و حدیث جہاں ان کی مدح و ثناء سے بھرپور ہیں وہاں قوموں کی تاریخ میں ان کی تعریف و توصیف زبان زدعام ہے۔ مختصراً یہ کہ علم و اخلاق کائنات کی بقاء کا باعث بھی ہیں اور انسان کی فوقیت کی وجہ بھی! علمائ، انبیائے کرام کے وارث اور جانشین بھی ہیں اور فرش برین پر وحی الٰہی کے امین، چوکیدار اور پاسبان بھی! فرشتے ان کے لیے پر بچھاتے ہیں اور مچھلیاں سمندر میں ان کے لیے دعا گو رہتی ہیں۔ ہزار درویشوں سے بڑا مقام ایک صاحبِ علم کا ہے۔ ان کے ساتھ چند لمحات گزارنا پوری رات عبادت کرنے سے بہتر ہے۔  وغیرہ وغیرہ۔

اجماع معصوم سہی مگر افراد معصوم نہیں:

یہ تمام فضائل و کمالات اپنی جگہ بالکل بجا اور درست ہیں۔ ان سے انکار ایسا ہے جیسے چمکتے دمکتے دن میں سورج کا انکار! لیکن بہرحال! علماء کرام انسان ہیں (سوائے انبیاء کرام کے) بشری تقاضے سے غلطی اور کمی کوتاہی ہونا کسی بھی فرد بشر سے عین ممکنات بلکہ حقائق میں سے ہے۔ علماء کا اجماع یقیناً معصوم ہے لیکن افراد بہرحال معصوم نہیں ہوتے۔ میں اگر اپنی بات کروں تو میں کبھی خود کو غلطیوں سے مبرّا اور پاک نہیں سمجھتا حالانکہ میں درس نظامی اور تخصص فی الافتاء کا فاضل ہوں۔ نو دس سال سے دین کی خدمات سے وابستہ ہوں۔ مولوی اور مفتی کا لقب لوگ بندۂ کے لیے بھی چسپاں کرتے ہیں۔

ہم نے اپنے گزشتہ کالموں میں فرقہ واریت کے خاتمے کے حوالے سے حکومت، میڈیا اور سیاست دانوں کے لیے چند تجاویز اور گزارشات پیش کیں انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس حوالے سے کچھ گزارشات اہل علم کے سامنے بھی پیش کرنے کی جسارت کی جائے۔ بندہ ایک متعصب مُلّا ہے اور ساتھ میں فارغ التحصیل عالمِ دین بھی، اس لیے ان سطور کو ملاحظہ کرتے ہوئے بندہ کے خلوص کو شک کی نگاہوں سے نہ دیکھا جائے۔ شیخ المشایخ حضرت مولانا محمد یحییٰ مدنی نور اﷲ مرقدہ اور حضرت مفتی سعید احمد حفظہ اﷲ کے فیض صحبت کی برکت سے جو کچھ اﷲ تعالیٰ نے امت کے لیے دردِ دل دیا ہے گزارش ہے کہ اس درد دل کو اسی دل کی آنکھوں سے ملاحظہ کیا جائے۔ اگر کچھ فائدے کی بات نظر آئے تو درحقیقت وہ انہی بزرگوں کا فیض اور عطائے خداوندی ہے اور جہاں کہیں بیان و تعبیر میں یا کچھ اظہار خیال میں لوچ نظر آئے تو اسے بندے کی نفسانیت، نادانی اور کم علمی پر محمول کرکے عفو و درگزر سے کام لیا جائے۔ کوئی اصلاح طلب بات نظر آئے تو ضرور مطلع کیا جائے!

۱۔ علم کے ساتھ تقویٰ کی ضرورت:

حقیقی علم وہ ہے جس کے ساتھ تقویٰ اور خوفِ خدا کی صفات بھی شامل ہوں۔ انما یخشی اﷲ من عبادہ العلماء (فاطر) فتنہ ، اختلاف اور نفرتیں ہمیشہ اسی وقت پیدا ہوتی ہیں جب ان صفات میں کمی آتی ہے۔ قرآن کی نظر میں اہل علم کے درمیان اختلاف آپس کے حسد اورمنصب کی رسہ کشی کی وجہ سے پیدا ہوا۔ وما اختلف الذین اوتوالکتب الامن بعد ماجاء ھم العلم بغیا بینھم (آل عمران) تقوی اور خوف خدا سے عاری صاحب علم، حسد، ریاکاری، احساس برتری، جذبہ مسابقت، گدی نشینی، نام و نمود کے شوق اور ہوسِ مال کے حملوں سے خود کو کیسے بچا پا سکتا ہے؟ پورے وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ علم ہو اور احساس برتری نہ ہو… علم ہو اور جذبہ مسابقت نہ ہو یہ ہو نہیں سکتا… اس لیے میری سب سے پہلے اپنے آپ سے، پھر اپنے نوخیز علماء ساتھیوں سے درمندانہ گزارش ہے کہ وہ فی الفور اپنا رشتہ اہل حق، اہل اﷲ سے جوڑیں۔ نفس کو رام کرنے اس کے خفیہ حملوں سے بچنے اور اس کی سرکشیوں اور چال بازیوں کو کچلنے کے لیے کسی متبع سنت شیخ کامل سے تعلق بے حد ضروری ہے۔

 اکابر اور سلف صالحین کے دور میں اختلافات کی کثرت اسی لیے دیکھنے کو نہیں ملتی کہ ان میں سے ہر ایک سلوک و احسان اور زہد وتصوف سے وابستہ اور منسلک تھا۔ ہمارے ایک دل جلے دوست نے ایک کڑوی لیکن خوب صورت بات کہی کہ ’’ہمارے دور میں مفتی زیادہ اور متقی کم رہ گئے ہیں یہی سب خرابیوں کی جڑ ہے۔‘‘

۲۔ فروعی بحثوں میں نہ الجھیں!

ہم اپنے گزشتہ کالموں میں یہ بات عرض کر چکے ہیں کہ متفقہ اصول اور مسلمہ عقائد سے انحراف قابل برداشت نہیں اور ایسے مواقع پر اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اس نئی گمراہی کا ابطال اور تردید فرائض میں سے ایک فریضہ ہے، لیکن جہاں تک بات ہے فروعی اور جزوی اختلافات کی تو اسے بحث و نظر کا میدان کارزار بنا لینا اور اپنی تمام تر توانائیاں اس پر صرف کردینا قطعاً دین کی خدمت نہیں ہوسکتی۔ بھلا جس مسئلہ میں صحابہ کرام اور سلف صالحین کا محبتوں بھرا اختلاف رہا وہ بعد کے زمانوں میں کیسے دور ہوسکتا ہے؟ اور اختلاف پلس محبت کا فارمولا، یکایک اختلاف پلس نفرت سے کیسے بدل سکتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ اختلافات نہیں بدلے، خود ہمارے رویے اور ذوق بدل گئے۔ ہمارے سوچنے کے انداز بدل گئے!!!

۳۔ اختلاف ہو، اہانت نہ ہو!

بہت سی نفرتیں اور اختلافات … معذرت کے ساتھ! … ہمارے زہر میں بجھے ہوئے تبصروں اور اہانت آمیز تنقید سے پیدا ہوتے ہیں۔ تنقید اور حق گوئی درست اور بجا! لیکن انداز مدلل اور عالمانہ اور لہجہ مشفقانہ ہونا چاہیے! حقارت آمیز اور نفرت بھرا نہیں ہونا چاہیے!

ادع الیٰ سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ اور فقولا لہ قولہ لینا کی آیات ہمارے سامنے ہونی چاہئیں!

۴۔ قدر کریں !

اﷲ جل شانہ نے قرآن کریم میں نیکی کے تمام شعبوں کی قدر کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ وتعاونوا علی البروالتقوی منع فرمایا ہے تو برائی، منکرات و خرافات اور گناہوں کا ساتھ دینے سے۔ ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان(المائدہ) اس لیے دین کے تمام شعبوں کی قدر کرنی چاہیے۔ سب کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور جس طرح اپنے کاموں کی قدر کی جاتی ہے دوسروں کے نیک کاموں کی بھی قدر کرنی چاہیے! اپنی صلاحیتوں اور کاموںکی قدر اور تعریف جبکہ دوسروں کی نفی اہل علم کی شان کے یکسر خلاف ہے۔

۵۔ سواد اعظم کا ساتھ دیجیے!

بعض اوقات کسی فروعی مسئلہ میں ایک سے زائد آراء ہوتی ہیں۔ محققین کے نزدیک ایک رائے راجح اور قوی ہوتی ہے لیکن علماء کی اکثریت دوسری رائے پر عمل کر رہی ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں نوخیز علماء کو چاہیے کہ وہ تحقیق پر عمل کرنے کی بجائے سواد اعظم اور اکثریت پر عمل کریں۔ ورنہ خوامخواہ میں ایک نیا جھگڑا کھڑا ہوجائے گا۔کیونکہ  عدم برداشت کا مادہ بڑھ گیا ہے اور اختلاف کی حدود کا خیال معدوم ہوتا جارہا ہے۔ کوئی بھی بڑا قدم اٹھانے یا کوئی نئی تحقیق پیش کرنے سے پہلے اپنے بڑوں سے مشورہ ضرور لیا جائے کہ مشورہ میں خیر ہے۔  و امرھم شوری بینھم

۶۔ تصادم کی راہ اختیار نہ کی جائے!

سلف صالحین کا ہمیشہ سے یہ طرز عمل رہا کہ وہ حکومت وقت کے خلاف مسلح بغاوت میں حصہ نہیں لیتے تھے۔ کیونکہ تاریخ شاہد ہے کہ عموماً ایسی مہم جوئیاں ناکام رہیں جبکہ نتیجے میں مسلمانوں کا خون بہت بہا۔

جہاد فرض ہے۔ اس سے انکار نہیں۔ لیکن اس کا محل کفار ہیں نہ کہ مسلمان فوجیں اور مسلم حکومتیں۔ صحابہ کرام، سلف صالحین، عبداﷲ بن المبارک، علامہ ابن تیمیہ، عمرمختار، سید سنوسی، شاہ ولی اﷲ، سید احمد شہید، مولانا قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا محمود الحٖسن دیوبندی، مولانا سید حسین احمد مدنی ان سب حضرات نے غیر مسلم طاقتوں کے خلاف جہاد کے فتاویٰ صادر کیے اور انہیں کے خلاف جہاد کیا۔

افغانستان میں روس کی ہزیمت کے بعد مسلمانوںمیں جو خونی تصادم ہوا جس میں طالبان کی حمایت کی گئی اور شمالی اتحاد کے خلاف طاقت کے استعمال کو جہاد کہا گیا اس کے حقائق و مضمرات پاکستان کے موجودہ حالات سے یکسر مختلف ہیں:

۱۔ اس وقت افغانستان میںحکومت کشمیر کی طرح …روسی نمائندوں کی تھی۔ مسلم حکمران کی حیثیت صرف کٹھ پتلی کی تھی، جبکہ پاکستان میں پاکستانی حکومت اور پاکستانی افواج اپنے تمام امور اور عزائم میں خود مختار ہیں۔ کٹھ پتلی نہیں ہیں۔

۲۔ افغانستان سے جب کٹھ پتلی روسی حکومت کو بے دخل کرنے کی آواز اٹھی تو مجاہدین کے پاس بھرپور وسائل تھے، کمزور حکومت کو ہٹانے سے کسی بڑے فتنے کا خدشہ بھی نہ تھا اور متبادل صالح قیادت موجود بھی تھی۔ جبکہ پاکستان کی صورت حال قطعاً مختلف ہے۔ پاکستان ایک مضبوط اسلامی ملک ہے۔ اس کے خلاف خروج ایک بہت بڑے فتنے اور خون خرابے کا باعث ہوگا۔ ہتھیار اٹھانے والوں کے پاس وسائل بھی نہیں اور صالح متبادل قیادت کا ہمیں علم نہیں جو پاکستان کو درپیش چیلنجز اور ممکنہ بحرانوں سے نکال سکے۔

۳۔ جہاں تک بات ہے شمالی اتحاد کے خلاف طاقت کے استعمال کو جہاد کہنے کی تو وہ اس لیے درست تھی کہ کٹھ پتلی روسی حکومت کے زوال کے بعد افغانستان میں حکومت کا وجود تھا ہی نہیں جسے حکومت کے خلاف بغاوت کا نام دیا جا سکتا بلکہ وہاں لادین اور سیکولر فوج کا مقابلہ اسلام اور خلافت راشدہ کے نظام کی علمبردار صالح طاقت سے تھا۔ دونوں میں حکومت کے حصول کی جنگ تھی۔ ایسی صورت میں علمائے امت نے باریک بینی سے دونوں افواج اور ان کے عزائم کو دیکھنے کے بعد ایک فریق (طالبان) کی حمایت کی اور علماء کی یہ حمایت اور تائید کس قدر درست تھی؟ اس کا اندازہ بعد کے حالات و واقعات سے بخوبی دنیا کو ہوگیا۔ آج یہ وہی طالبان ہیں جنہوں نے اتحادی افواج کو شکست فاش دے دی ہے ۔

 اس کے مقابلے میںپاکستان میں حکومت کا وجود ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانے کو افغانستان میں ہونے والی خانہ جنگی سے تشبیہ دینا اور اس وقت کے فتاویٰ کو پاکستانی حکومت کے خلاف چسپاں کرنا ہمارے خیال میں نا مناسب اور لایعنی فعل ہے۔

ہمارا یہ خیرخواہانہ اور مخلصانہ مشورہ ہے اور یہی قرآن و سنت کا حکم بھی ہے کہ اپنوں سے اچھے اسلوب اور حکیمانہ طرز عمل کے ساتھ بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کیے جائیں۔ اپنے مطالبات کو قانونی اور شرعی حدود میں رہتے ہوئے اکابر علماء کی تصدیق و تائید کے ساتھ پیش کیا جائے اور جہاد جیسے مقدس عمل کو ہمیشہ جارح اور قابض غیر مسلم افواج کے خلاف استعمال کیا جائے۔ گولی کا جواب گولی سے دینے کا قانون کافر طاقتوں کے لیے ہے اپنوں کے خلاف یہ پالیسی اپنائی جائے گی تو امن و آشتی کی بجائے جھگڑا و فساد ہی پیدا ہوگا۔

حکومت اور پاکستانی افواج سے بھی ہمارا مطالبہ ہے کہ طاقت کا استعمال اس مسئلہ کا حل ہوتا تو 2001ء سے متعدد بار یہ آپشن آزمایا جا چکا ہے۔ ہر بار یہ آپشن ناکام رہا۔ اس لیے پاکستان کے بہترین اور اعلیٰ مفاد کے لیے طاقت کی بجائے مذاکرات اور ڈائیلاگ سے ہی اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

دو سوال:

یہاں پہنچ کر ہم ارباب اقتدار ، ارباب اختلاف اور تمام فرقہ وارانہ تنظیموں کے سامنے دو سوال اٹھانا چاہتے ہیں:

۱۔ پاکستان میں جاری خانہ جنگی اور فرقہ واریت کے نتیجے میں ہونے والے خون خرابے سے کیا مخالف کمزور ہوگئے؟ آپ ان کے دو مارتے ہیں۔ بدلے میں وہ آپ کے دو مارتے ہیں۔ یہ کون سی فتح اور کامیابی ہے؟ یہ تو ایک بے مقصد جنگ ہے۔ خوامخواہ کا خون خرابہ ہے۔

۲۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ سے بڑھ کر اور کیا مثال اور دلیل ہوسکتی ہے؟

کیا عہد نبویﷺ میں آستین کے سانپ، کھلم کھلا اور چھپے منافق موجود نہ تھے؟ منافق کا مطلب دل میں کافر اور ظاہر میں اسلام کا نام لیوا۔ کیا قرآن کریم میں منافقوں کا تذکرہ موجود نہیں؟ لیکن کیا اسلام کے ان نام لیواؤں کو اﷲ کے نبی ﷺ نے قتل کروادیا۔ یا صحابہ کرام نے انہیں واجب القتل قرار دیا؟ بلکہ صحابہ کرام نے جب آقا علیہ السلام سے منافقوں کو جان سے مارنے کی اجازت چاہی تو آپ نے ایک تاریخی جواب ارشاد فرمایا جو تمام مسلمانوں مسلم تنظیموں اور حکومتوں کی پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے کہ ’’میں نے ان کو قتل کروایا تو باہر کی دنیا کے لوگ ہمارے بارے میں کیا تاثر قائم کریں گے؟ یہی کہ یہ کیسا دین ہے جو اپنے ہی ماننے والوں کو قتل کرادیتا ہے!!!‘‘

۷۔ تکفیر میں احتیاط کی جائے!

کفر ایک نہایت سنگین معاملہ ہے۔ کسی مسلمان کی طرف کفر منسوب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ارتداد اختیار کر لیا ہے اور ارتداد کی سزا بہت سخت ہے اور یہ مشہور قاعدہ ہے: الحدود تندریٔ بالشبھات یعنی سزائیں، معمولی شبہات سے ساقط ہوجاتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جیسے حدود اور سزائیں شبہ سے ساقط ہوجاتی ہیں اس کا باعث بننے والی چیز یعنی کفر بھی شبہ اور احتمال کی وجہ سے غیر معتبر قرار دی جائے گی۔ چنانچہ علمائے امت نے صراحت کی ہے کہ کسی مسلمان سے کوئی ایسا قول و فعل سرزد ہو جس میں ننانوے احتمالات کفر کے اور صرف ایک احتمال صحیح نکلتا ہو تو حسنِ ظن رکھتے ہوئے اس ایک صحیح احتمال کی بنیاد پر اسے مسلمان کہا جائے گا اور اس پر کفر کا فتوی عائد نہیں کیا جائے گا۔

(الفتاوی التتارخانیہ : ۵/۳۱۲ قدیمی)

نحن نحکم بالظواھرواﷲ اعلم بالسرائر یعنی ہمارا کام ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے، دلوں کے بھیدوں کے ہم مکلف نہیں۔

 اس متفقہ اصول کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ لزوم کفر اور التزام کفر کے فرق کو ذہن نشین رکھنا بھی ناگزیر ہے۔ یہ قاعدہ بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ اجماع لاحق، (بعد کے زمانے کا اتفاق) اختلاف سابق( گزشتہ قدیم دور سے چلے آرہے ہیں اختلاف) کو ختم نہیں کرسکتا۔ (احکام القرآن للتھانوی اشرف الجواب للتھانوی)

 بعض ہمارے دوست اس بات کو بھی پیش نظر نہیں رکھتے کہ جماعت کے دو چند افراد کے کفریات سے پوری جماعت اور پورے فرقہ کی تکفیر لازم نہیں آتی۔ مجرم وہ فرد ہے جس نے ارتکابِ جرم کیا ہے۔ ایک مجرم کے جرم کی وجہ سے اس کے پورے خاندان اور قبیلے کو مجرم قرار دینا عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔

۸۔ شخصیات کا احترام کیا جائے!

ایک تجویز یہ بھی ہے کہ کوئی فرقہ دوسرے فرقہ کے پیشواؤں اور ان کی محترم شخصیات کو سرعام تنقید کا نشانہ نہ بنائے۔ اس حوالے سے قرآن کریم سورہ انعام آیت 108 کو مدنظر رکھا جائے: ولا تسبوا الذین یدعون من دون اﷲ فیسبوا اﷲ عدوا بغیر علم۔ حضرات علماء کرام اس آیت کی تفسیر سے بخوبی واقف ہیں۔

۹۔ اختلافی مواد سرعام نشرنہ کیا جائے!

عوامی محافل میں منبر و محراب پر متنازعہ اور فروعی اختلافات کو ہوا نہ دی جائے۔ عوام کے سامنے ہمیشہ محبت، ہمدردی، بھائی چارگی، معاشرے کے اجتماعی اور سلگتے موضوعات اور اسی طرح کے متفقہ مسائل پر بات کی جائے۔ عوام میں یہ شعور اور بیداری پیدا کی جائے کہ رجوع الی القرآن اور اتحاد و اتفاق ہی وہ حل ہیں جو مسلمانوں کو موجودہ مشکلات سے نجات دلا سکتے ہیں۔

۱۰۔ ملاقاتیں رہنی چاہئیں:

بہت سی غلط فہمیوں اور تنازعات کا باعث محض ’’دوریاں‘‘ بھی ہوتی ہیں۔ علمائے کرام کو کوئی ایسا لائحہ عمل طے کرنا چاہیے جس کی وجہ سے آپس میں ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ بات چیت جاری رہے اور گلے شکوے دور ہوتے رہیں۔ یاد رہے! دوریاں جتنی بڑھیں گی غلط فہمیاں اور فاصلے اتنے ہی گہرے ہوتے چلے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں