طلاق شدہ عورت کا نان نفقہ اور عدت

فتویٰ نمبر:1072

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

سوال:-السلام علیکم !

مفتی صاحب کیسے مزاج ہیں 

زید کا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا اور بیوی بغیر اجازت گھر سے چلی گئی. اور زید ملک سے باہرچلاگیا. اب نوبت طلاق تک آگئی ہے .

سوال یہ ہے کہ تین ماہ گزر چکے ہیں بیوی میکے ہے. کیا زید تین ماہ کہ نان نفقے کا ذمہ دار ہے 

اور کیا بیوی عدت رکھے گی اور کیا میاں عدت کے دوران عورت کے نان نفقے کاذمہ دار ہوگایہ کل تین سوال ہوئے. تفصیل سے جواب درکار ہے 

اللہ آپ کے اعمال صالح , عمر اور علم میں برکت عطا فرمائے آمین 

والسلام

نذیر احمد 

واں بھچراں 

الجواب حامدۃ و مصلیہ 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ!

الحمدللہ اللہ پاک کی کرم نوازی ہے.

1:-دیکھا جائے گا کہ مرد کی طرف سے اگر ظلم کیا گیا ہے کہ عورت مجبور ہو کر گھر سے نکلی ہے تو نفقہ مرد کے ذمہ ہے, اگر غلطی عورت کی طرف سے ہے اور خود عورت اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر گئی ہے تو ایسی عورت ناشزہ (نافرمان)ہے اور مرد کے ذمہ اس کا نان نفقہ نہیں ہے.

2:-جی بالکل مطلقہ عورت اگر حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے, اگر حاملہ نہیں ہے تو اس کی عدت تین ماہواری گزرنے تک رہے گی.

3:-اگر زید نے خود بیوی کو گھر سے نکالا تو عدت میں نفقہ دے اور اگر عورت نے نافرمانی کرتے ہوئے گھر چھوڑا تو زید کے ذمہ عدت میں بھی کچھ نہیں ہے.

إذا طلق الرجل امرأتہ طلاقا بائنا أو رجعیا أو ثلاثا أو وقعت الفرقۃ بینہما بغیر طلاق وہی حرۃ ممن تحیض فعدتہا ثلاثۃ أقراء و عدۃ الحامل أن تضع حملہا۔ (عالمگیری، الباب الثالث عشر فی العدۃ، زکریا ۱/۵۲۶-۵۲۸، جدید زکریا ۱/۵۸۰-۵۸۱)

وإذا طلق الرجل امرأتہ طلاقا بائنا أو رجعیا أو وقعت الفرقۃ بینہما بغیرطلاق وہی ممن تحیض فعدتہا ثلاثۃ أقراء لقولہ تعالیٰ: والمطلقٰت یتربصن بأنفسہن ثلاثۃ قروء (البقرۃ:۲۲۸) … وإن کانت حاملا فعدتہا أن تضع حملہا لقولہ تعالیٰ: وأولات الأحمال أجلہن أن یضعن حملہن (الطلاق: ۴) ۔ (ہدایہ، اشرفی دیوبند ۲/۴۲۲-۴۲۳)

عن الشعبی: أنہ سئل عن امرأۃ خرجت من بیتہا عاصیۃ لزوجہا، ألہا نفقۃ؟ قال: لا، و إن مکثت عشرین سنۃ۔ (المصنف لابن أبی شیبۃ، الطلاق ما قالوا فی المرأۃ تخرج من بیتہا وہی عاصیۃ …مؤسسۃ علوم القرآن ۱۰/۱۵۲، رقم: ۱۹۳۶۹)

لا نفقۃ لأحد عشر … وخارجۃ من بیتہ بغیر حق وہی الناشزۃ۔ (الدر مع الرد، کتاب الطلاق، باب النفقۃ زکریا ۵/۲۸۵-۲۸۶، کراچی ۳/۵۷۶)

ولا نفقۃ للناشزۃ فإن اللہ تعالیٰ أمر فی حق الناشزۃ بمنع حظہا فی الصحبۃ بقولہ تعالیٰ: ’’واھجروھن فی المضاجع۔ [النساء:۳۴] }

فذٰلک دلیل علی أنہ تمنع کفایتہا فی النفقۃ بطریق الأولیٰ۔ (المبسوط للسرخسی، دار الکتب العلمیۃ بیروت ۵/۱۸۶)

واللہ اعلم بالصواب 

بنت خالد محمود غفرلھا

دارالافتاء صفہ اسلامک ریسرچ سینٹر

ہمارا فیس بک پیج دیکھیے. 

فیس بک:

https://m.facebook.com/suffah1/

ہمارا ٹوئیٹر اکاؤنٹ جوائن کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں. 

ٹوئیٹراکاؤنٹ لنک

https://twitter.com/SUFFAHPK

ہماری ویب سائٹ سے وابستہ رہنے کے لیے کلک کریں:

www.suffahpk.com

ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں:

https://www.youtube.com/channel/

اپنا تبصرہ بھیجیں