کھانےکےبعدمیٹھاکھانےکاحکم

فتویٰ نمبر:1055

کیا کھانے کے بعد میٹھا کھانا سنت ہے؟

السلام علیکم 

کیا کھانے کے بعد میٹھا کھانا سنت سے ثابت ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

وعلیکم السلام 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا میٹھا پسند کرنا ثابت ہے،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانے کے بعد میٹھا کھانے کا معمول ہو یہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ، البتہ ایک موقع پر کھانے کے بعد میٹھی چیز نوش فرمانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔

حضرت عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا تناول فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کے آخر میں کھجور تناول فرمائی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے کے آخر میں آپ ﷺ نے میٹھی چیز کھائی ہے.

(جامع الترمذی، ابواب الاطعمة، باب ما جاء فی التسمیة فی الطعام،ج: ۲، ص: ۱۱، ط: سعید)

لیکن ایک آدھ مرتبہ کھانے کے بعد میٹھی چیز تناول فرمانے کی بنا پر کھانے کے بعد میٹھے کو سنت نہیں کہاجائے گا؛ لہذا میٹھا اگر اتباع سنت کی نیت سے کھائے تو ان شاءاللہ موجب اجر ہے لیکن کھانے کے بعد کی سنت سمجھنا درست نہیں ۔

الحجۃ علی ما قلنا :

(۱) ما فی ’’ الحدیث النبوی ‘‘ : عن عائشۃ رضی اللہ تعالی عنہا قالت : ’’ کان رسول اللہ ﷺ یحب الحلوٰی والعسل ‘‘۔ (صحیح البخاری : ۲/۸۱۷ ، کتاب الأطعمۃ ، باب الحلوٰی والعسل)

ما فی ’’ فتح الباری ‘‘ : ووقع فی کتاب ’’ فقہ اللغۃ للثعالبی ‘‘ : أن حلوی النبی التی کان یحبہا ھی المجیع بالجیم وزن عظیم ، وھو تمر یعجن بلبن ، وفیہ رد علی من زعم أن المراد أنہ کان یشرب کل یوم قدح عسل یمزج بالماء ط وأما الحلوی المصنوعۃ فما کان یعرفہا ، وقیل : المراد بالحلوی الفالوذج لا المعقودۃ علی الفار ۔ (۹/۶۸۹؍۶۹۰، کتاب الأطعمۃ)

واللہ اعلم بالصواب 

بنت عبدالباطن عفی عنھا 

دارالافتا صفہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی

١٣شعبان ١٤٣٩ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں