مرد کے لیے ریشمی کپڑے کے استعمال کا حکم

فتویٰ نمبر: 5048

سوال: محترم جناب مفتیان کرام! االسلام عليكم ورحمة الله وبركاته…. 

مرد كے لیے ریشم کی واسکٹ پہننا کیسا ھے۔۔۔ اسی طرح کوٹ کے اندر بھی ریشم کا کپڑا ھوتا۔۔۔ نیز ریشم کی بیڈ شیٹ تکیہ کشن وغیرہ کیا مرد استعمال کر سکتے ھیں؟

والسلام

الجواب حامداو مصليا

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!

ہر ایسا کپڑا جس کا تانا بانا(لمبائی چوڑائی کا دھاگا ) دونوں ریشم کے ہوں یا بانا ریشم کا ہو یا تانا بانا دونوں میں ریشم شامل ہو اور مجموعی طور پر ریشم غالب ہو وہ مردوں کے لیے پہننا حرام ہے، بصورتِ دیگر تمام کپڑے مردوں کے لیے استعمال کرنا شرعاً جائز ہے۔

بہرحال مرد کے پہننے کے لیے ریشمی کپڑے کی خریداری سے پہلے خریدار سے خوب اچھی طرح معلومات کرنے کے بعد ’کپڑا خریدا جائے۔ اگر وہ خالص ریشم یا اس کا بانا خالص ریشم کا ہو یا تانا بانا میں اکثر ریشم کا ہو اور ریشم غالب بھی ہو تو ایسا کپڑا مرد کے لیے پہننا جائز نہیں۔ 

نیز ریشم کی بیڈ شیٹ،تکیہ کشن وغیرہ مرد استعمال کرسکتے ہیں ۔ 

سنن ابی داؤد میں ہے:

’’حدثنا ابن نفيل حدثنا زهير حدثنا خصيف عن عكرمة عن ابن عباس قال: إنما نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الثوب المصمت من الحرير، فأما العلم من الحرير وسدى الثوب فلا بأس به‘‘. ( سنن أبي داود » كتاب اللباس » باب الرخصة في العلم وخيط الحرير، رقم الحديث: ٤٠٥٥)

عون المعبود میں ہے:

’’وقال الطيبي : هو الثوب الذي يكون سداه ولحمته من الحرير لا شيء غيره ، ومفاد العبارتين واحد ( وسدى الثوب ) : بفتح السين والدال بوزن الحصى ، ويقال ستى بمثناة من فوق بدل الدال لغتان بمعنى واحد وهو [ ص:82 ] خلاف اللحمة وهي التي تنسج من العرض وذاك من الطول ، والحاصل أنه إذا كان السدى من الحرير واللحمة من غيره كالقطن والصوف ( فلا بأس )؛ لأن تمام الثوب لا يكون إلا بلحمته . والحديث يدل على جواز لبس ما خالطه الحرير إذا كان غير الحرير الأغلب وهو مذهب الجمهور‘‘.

التمهيد في الموطأ من المعاني و الأسانيدمیں ہے:

’’لا يختلفون في الثوب المصمت الحرير الصافي الذي لا يخالطه غيره أنه لايحل للرجال لباسه‘‘. (١٤/ ٢٤٠)

الاختيار لتعليل المختارمیں ہے:

’’لا بأس بلبس ماسداه إبريسم و لحمته قطن أو خز‘‘. (ص: ٤٩)

تنویر الأبصار مع الدر المختارمیں ہے:

’’و يحل ( لبس ما سداه ابريسم و لحمته غيره) ككتان و قطن و خز؛ لأن الثوب إنما يصير ثوباً بالنسج، و النسج باللحمة، فكانت هي المعتبرة دون السدي‘‘.

و في الشامية: ’’( قوله: و لحمته غيره) سواء كان مغلوباً أو غالباً أو مساوياً للحرير، و قيل: لا بأس إلا إذا غلبت اللحمة علي الحرير، و الصحيح الأول‘‘. ( شامي، كتاب الحظر و الإياحة، ٦/ ٣٥٦، ط: سعيد)

و اللہ سبحانہ اعلم

قمری تاریخ: 15 محرم 1441ھ

عیسوی تاریخ: 15ستمبر2019

تصحیح وتصویب:مفتی انس عبد الرحیم

ہمارا فیس بک پیج دیکھیے. 

فیس بک:

https://m.facebook.com/suffah1/

ہمارا ٹوئیٹر اکاؤنٹ جوائن کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں. 

ٹوئیٹراکاؤنٹ لنک

https://twitter.com/SUFFAHPK

ہماری ویب سائٹ سے وابستہ رہنے کے لیے کلک کریں:

www.suffahpk.com

ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں:

https://www.youtube.com/channel/UCMq4IbrYcyjwOMAdIJu2g6A

اپنا تبصرہ بھیجیں