زم زم کا پانی غیر مسلم کو ہدایت کی نیت سے دینا

سوال:کیا زم زم کا پانی غیر مسلم پڑوسیوں اور دوستوں کو ان کی کسی مشکل میں ان کی ہدایت کی نیت سے دے سکتے ہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب:
زم زم کا پانی کسی غیر مسلم کو دیا جا سکتا ہے، اس میں کچھ حرج نہیں۔ البتہ یہ نیت کرلیں کہ اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دے،کچھ بعید نہیں کہ اس بابرکت پانی کی برکت سے اسے ہدایت بھی مل ہو جائے۔
*************
حوالہ جات
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَاءُ زَمْزَمَ، لِمَا شُرِبَ لَهُ۔
ترجمہ : حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا :زمزم کاپانی اس (مقصد) کے لیے ہے جس کے لیے وہ پیا جائے-‘‘
( سنن ابن ماجہ۔ 3062)۔

فقط واللہ اعلم وعلمہ اتم
17 ستمبر 2022ء
19 صفر المظفر 1444ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں