ایک بیٹے اورچار بیٹیوں میں تقسیم میراث

سوال:السلام علیکم ورحمة اللّٰہ وبرکاته ۔

ترکے کی تقسیم کا سوال ہے۔ ایک مکان ہے جس کی قیمت تقریبا ۶۰ لاکھ ہوگی۔ وارث ۱ بھائی اور ۶ بہنیں ہیں۔ ہر ایک کا حصہ بتا دیجیے برائے کرم۔ جزاکم اللہ۔

تنقیح:

بہن بھائی سے مراد میت کے بہن بھائی یا میت کی اولاد؟ سائلہ ورثہ کا میت سے رشتہ تحریر کرے۔ نیز، میت کے ماں باپ اور دادا، زوجہ حیات ہیں؟

جواب تنقیح:

میت کی اولاد۔ میت کی اولاد میں ایک بیٹا ۶ بیٹیاں شامل ہیں۔ اور کوئی وارث نہیں۔

مزید تنقیحات سے معلوم ہوا کہ زوجہ کا میت کے بعد انتقال ہوا۔ زوجہ کے ورثاء وہی ہیں جو سوال میں مذکور ہیں۔ بیوی کو مہر ادا نہیں کیا گیا۔ مہر کی مقدار سائل کو صحیح طرح یاد نہیں۔

الجواب باسم ملہم الصواب

و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

مذکورہ صورت میں مرحوم نے انتقال کے وقت اپنی ملكیت میں جو كچھ منقولہ غیرمنقولہ مال و جائیداد، دكان مكان، نقدی ،سونا، چاندی غرض ہر قسم كا چھوٹا بڑا جو بھی سازوسامان چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم كا تركہ ہے۔

1⃣ اس میں سے سب سے پہلے مرحوم كے كفن دفن كا متوسط خرچہ نكالا جائے، اگر كسی نے یہ خرچہ بطور احسان ادا كردیا ہے تو پھر تركے سے نكالنے كی ضرورت نہیں۔

2⃣ اُس كے بعد دیكھیں اگر مرحوم كے ذمے كسی كا كوئی قرض واجب الادا ہوتو اُس كو ادا كیا جائےاور اگر مرحوم نے بیوی كا حق مہر ادا نہیں كیا تھا اور بیوی نےبرضا و رغبت معاف بھی نہیں كیا تو وہ بھی قرض كى طرح واجب الادا ہے، اُسے بھی ادا كیا جائے۔

3⃣ اُس كے بعد دیكھیں اگر مرحوم نے كسی غیر وارث كے حق میں كوئی جائز وصیت كی ہو توبقایا تركے كے ایک تہائی حصے كی حد تک اُس پر عمل كیا جائے۔

4⃣ اُس كے بعد جو تركہ بچے اُس كے 8 برابر حصے کیے جائیں ۔

جس میں سے:

• بیٹے کو 2 حصے

• اور ہر بیٹی کو 1 حصہ دیے جائیں گے۔

فیصد کے اعتبار سے تقسیم یوں ہوگی:

بیٹے کے لیے:25 %

ہر بیٹی کے لیے: 12.5%

نقد کے اعتبار سے تقسیم یوں ہوگی:

• بیٹے کے لیے 15 لاکھ

• ہر بیٹی کے لیے 7.5 لاکھ

بیوی کو چونکہ مہر ادا نہیں کیا گیا اس لیے مہر کی رقم بھی مذکورہ بالا ورثہ میں اسی تناسب سے تقسیم کی جائےگی۔

= = = = = = =

• قال اللہ تعالیٰ: يُوۡصِيۡكُمُ اللّٰهُ فِىۡۤ اَوۡلَادِكُمۡ‌ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَيَيۡنِ‌ [سورۃ النساء آیت ۱۱]

فقط۔ واللہ خیر الوارثین

= = = = = = =

اپنا تبصرہ بھیجیں