کمپنی اور ڈیلر شپ کا حکم

فتویٰ نمبر:441

سوال: ایک دکان دار کسی کمپنی کا ڈیلر ہے،تو جب ڈیلر اپنی کمپنی کو سامان کا آرڈر  دیتا ہےتو اس آرڈر کی شرعی حیثیت کیا ہے؟یہ وعدہ بیع ہے یا استصناع؟واضح رہے کہ ڈیلرکبھی ای میل کے ذریعے باقاعدہ پرچیز آرڈر(P.O)بنا کر آرڈر دیتا ہے جس میں مختلف قسم کے مطلوبہ سامان کی تعداد اور ان کی مقداریں درج ہوتی ہیں اور بعض اوقات ڈیلیوری وغیرہ سے متعلق (Terms and Conditions)لکھی ہوتی ہیں۔یا ڈیلر فون پر آرڈر دیتا ہے۔بذریعہ فون یا بالمشافہ آرڈر دیتے وقت ڈیلر اپنی کمپنی کو یہ کہتا ہے کہ فلاں فلاں سامان بھجوادیں۔پہنچادیں یا فلاں سامان ،فلاں مشینری وغیرہ تیار کرکے دے دیں۔آرڈر وصول کرنے والی کمپنی بعض اوقات مینو فیکچرر ہوتی ہے یعنی مال خود تیار کرتی ہےاور بعض اوقات مینوفیکچرر نہیں ہوتی بلکہ کہیں اور سے تیار مال کا انتظام کرتی ہے۔

ا ب سوال یہ ہے کہ کون سا آرڈر کو استصناع کہیں گے اور جن میں صنعت نہ ہو اور وہ چیز بائع کی ملک میں فی الحال نہ ہو اس کے آرڈر کو وعدہ بیع کہیں گے؟آج کل زیادہ تر کمپنیاں جو اپنے ڈیلرز ،ڈسٹری بیوٹرزکے ذریعے مال فروخت کرتی  ہیں،وہ مینو فیکچرر ہوتی ہیں ان کے پروڈکشن یونٹس ہوتے ہیں اور ان میں ہر سامان کی صنعت ہورہی ہوتی ہے تو کیا ڈیلرز اور ڈسٹری بیوٹرزکی طرف سے ملنے والے تمام پرچیز آرڈرز اور فون یا بالمشافہ ملنے والے آرڈرز جن کی کمپنی میں صنعت ہورہی ہے،استصناع کہلائیں گے؟یا یہ کہ وہ آرڈرزجس میں ڈیلر ڈسٹری بیوٹر صنعت کا تذکرہ اور صراحت کرےیعنی یوں کہے کہ فلاں سامان یا فلاں مشینری   “بناکر” یا “تیار کرکے ” دے دو ،اور سپلائر خود مال تیار کرتا بھی ہو۔اسے استصناع کہا جائے گا جبکہ وہ آرڈرجس میں صنعت کا ذکر نہ ہو بلکہ مال بھجوانے،پہنچانے کا ذکر ہو اس آرڈ ر کو وعدہ بیع کہیں گے،اگرچہ وہ صنعت کا محتاج ہو اور سپلائر وہ مال خود تیار کرتا ہو۔یااس کے علاوہ کوئی اور فرق ہے؟براہ کرم اس کی وضاحت فرمادیں کہ سپلائر کو ملنے والا کون سا آرڈر استصناع کہلائے گا اور کون سا آرڈر وعدہ بیع کہلائے گا؟

سائل:محمد انور

الجواب حامدا و مصلیا و مسلما

ہم آرڈر کو استصناع کہیں یا وعدہ بیع کہیں یا سلم کہیں؟اس کا مدارآرڈر کی جانے والی چیز اور آرڈر دینے کی نوعیت سے ہے۔جس کی تفصیل یہ ہے:

اگر مبیع ایسی چیز ہوجس کو بنانا پڑتا ہوتواس کا آرڈر ہر صورت میں استصناع قرار دیا جائے گا۔ چاہے الفاظ میں بنانے ،تیار کرنے کے الفاظ استعمال کیے ہوں یا نہیں۔چاہے وہ آرڈر ملنے کے بعد بنائے یا چیز پہلے سے بنی ہوئی رکھی ہو یا کسی اور سے بنوائے یا کسی اور سے لے کر دے۔ہر صورت میں اسے استصناع قرار دیا جائے گا۔

اگر مبیع ذوات الامثال(وہ اشیاء جن کی اکائیاں ایک جیسی یا قریب قریب ایک جیسی ہوں (میں سے ہے  اور قیمت مکمل پیشگی دے دی گئی ہے تو یہ سلم کا عقد ہےاورسلم کی شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہوگا۔

اگر چیز ایسی ہے جس کو نہ تو بنانا پڑتا ہے اور نہ ہی ذوات الامثال میں سے ہے تو ایسےعقد کی مکمل تفصیلی صورت لکھ کر ارسال کریں اس کے بعد اس پر غور کرکے جواب دیا جائے گا۔

فی شرح المجلۃ:( كل شيء تعومل استصناعه يصح فيه الاستصناع على الإطلاق وأما ما لم يتعامل باستصناعه إذا بين فيه المدة صار سلما وتعتبر فيه حينئذ شروط السلم وإذا لم يبين فيه المدة كان من قبيل الاستصناع أيضا)—-ثم ما ورد التعامل فی استصناعہ سواءکان موجلاالی شھر او ازید ،او لم یکن موجلا،فالتاجیل یحمل علی استعجال ولا یخرجہ عن کونہ استصناعا،وھوقول الامامین وعلیہ مشت ھذہ المادۃ لکونہ ارفق (شرح المجلۃ، المادة ۳۸۹،جلد ۲،صفحہ ۴۰۳،مکتبۃ رشیدیۃ)

وفیہ ایضا:واما اذا اتی الصانع بعین صنعہا قبل العقد ورضی بہ المستصنع،فانما جازلا بالعقد الاول،بل بعقد آخر وھو التعاطی بتراضیھما(شرح المجلۃ،المادة ۳۸۸،جلد ۲،صفحہ ۴۰۱،مکتبۃ رشیدیۃ)

وفی فقہ البیوع؛اما فی شراء السیارات من الشرکۃ فالطریق المتبع ان المشتری یدفع الی وکیل الشرکۃ الثمن مقدما بعد تعیین نوع السیارۃ المطلوبۃ واوصافھا و لونھا۔۔۔۔۔والظاھر انہ ینطبق علیہ احکام الاستصناع ۔الی آخرہ۔ (فقہ البیوع،جلد ۱،صفحہ ۶۱۰،مکتبۃ معارف القرآن)

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
کتبہ
شیخ نعمان
دارالافتاء جامعۃ السعید
نرسری،کراچی
۳/جمادی الاولی/۱۴۳۹
۲۰/جنوری/۲۰۱۸
 
الجواب صحیح 

اپنا تبصرہ بھیجیں