پلاٹ نام کرادیا لیکن خالی کرکے نہیں دیا تو ہبہ ہوگیا؟

 محترم جناب  مفتی صاحب جامعہ دارالعلوم کراچی !

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

گزارش ہے کہ آج کل مکان وجائیداد کے ہبہ ( گفٹ )  کی ایک صورت جو بکثرت رائج ہے وہ یہ ہے کہ والدین اپنے بیٹے/ بیٹی کوقانونی  رجسٹریشن کے ذریعہ مکان سرکاری کاغذات میں ان کے نام کردیتے ہیں اور کاغذات کبھی حوالہ  کردیتے ہیں اور کبھی  نہیں کرتے،  لیکن اپنی زندگی میں وہ خود اسی مکان میں رہتے ہیں ا ور ان کا سازوسامان  بھی اسی مکان میں ہوتاہے ۔ا ور اپنی دانست  کے مطابق یہ سمجھتے ہیں کہ گفٹ  ہوگیا اورا ب یہ مکان بیٹے/بیٹی کا ہے۔ کیااس طرح  موہوب لہٗ کے نام سے  رجسٹریشن  کروانے سے ہبہ درست  ہوجاتا ہے یا نہیں ؟ کیارجسٹریشن  شرعی لحاظ سےقبضہ شمار  ہوگی ؟ اس کےلیے کیا صورت  اختیار کرنی  چاہیے ؟ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ والد اپنی زندگی میں جائیداد  تقسیم کرتے  وقت دوسری اولاد کواپنی دیگر مملوکہ اشیاء  مثلاً نقد رقم ، زیور، گاڑی  وغیرہ میں سے حصہ دیتا ہے اورایک بیٹے کو دوسروں کے حصوں کے بقدر یا کچھ کم یازیادہ ” مکان“ کی صورت میں دیتا ہے، والد کے انتقال کے بعد مسئلہ پوچھنے پراسے علماء  کی طرف سے یہ جواب ملتا ہے کہ باقی اولاد کا ہبہ تودرست ہوگا، لیکن مکان چونکہ خالی کرکے نہیں دیا گیا تھا اس لیے مکان کا ہبہ درست نہیں ہوا، لہذا مکان ترکہ میں تقسیم ہوگا، جس کا نتیجہ یہ کہ دوسرے ورثاء کوتو جائیداد میں سے والد کی زندگی میں بھی حصہ ملا  اور انتقال کے بعد بھی بطور وراثت  حصہ ملا، جبکہ  مکان والے بیٹے کو زندگی میں جو حصہ ملا اس میں بھی دوسروں  کا حصہ نکل آیا، اورا س کا اپنا حصہ بہت کم ہوگیا۔ ازراہ کرم مسئلہ کی اہمیت  کے پیش نظر  اگر تفصیلاً جواب عنایت فرمائیں تونوازش ہوگی ۔

سائل : عبداللہ کراچی  

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب حامداومصلیاً

حضرات  فقہاء حنفیہ ؒ سمیت  دیگر متعدد فقہاء کرام ؒ کے نزدیک  ہبہ کے تام ہونے کے لیے  موہوب لہٗ (جس کو ہبہ کیاجائے ) کا شیئ موہوب (جوچیز ہبہ کی جائے ) پر قبضہ کرنا ضروری ہے ۔ اور ہبہ تام ہونے کے لیے قبضہ کی شرط  خلفائے راشدین  رضی اللہ عنھم  کے فیصلوں سے ثابت  ہے، البتہ  قبضہ کی کیفیت  اور نوعیت  کیا ہونی چاہیے ؟ اس کا چونکہ نص میں ذکر نہیں ہے، اس لیے اس کا مدار عرف پرہے، یعنی عرف میں جسے قبضہ سمجھا جاتا ہو وہی  شرعاً بھی قبضہ  شمار ہوگا، خواہ قبضہ حقیقی ہو یا حکمی (عبارت نمبر ۲،۱) چنانچہ فقہاء کرام ؒ نے  اپنےا پنے زمانے  کے عرف  کے لحاظ  سے  مختلف  اشیاء کے قبضہ  کی مختلف صورتیں  بیان فرمائی ہیں ، لیکن عبارات  میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے  کہ زمین کے قبضہ کے لیے جن امور کوحضرات فقہاء کرام ؒ نے لازم قراردیا ہے وہ امور درحقیقت  بذات خود مقصود نہیں ، بالخصوص جبکہ وہ منصوص بھی نہیں،  بلکہ ان امور سے اصل مقصود یہ ہے کہ قبضہ کرنے والا اس زمین پر ہر قسم کے مالکانہ  تصرفات  کرنے میں خود مختارہو۔ چنانچہ اس مقصد کے حصول کے لیے اس زمانے میں جو امور ضروری  سمجھے جاتے تھے انہیں فقہاء کرامؒ  نے ضروری قرار  دیا لیکن چونکہ وہ عرف  پر مبنی ہیں  اس لئے  عرف کے بدلنے سے قبضہ کی صورتوں میں بھی تبدیلی ہوسکتی ہے ۔

البتہ بنیادی  چیز جس پر تمام فقہاء کرامؒ زمین  کے قبضہ کے حوالے سے متفق ہیں وہ ہے ”تخلیہ“ ۔ا ور تخلیہ کی حقیقت  یہ ہے کہ ارض موہوبہ  اور موب لہٗ کے درمیان تمام رکاوٹوں  کواس طرح ختم کردیا جائے کہ موہوب لہٗ کواپنی مرضی  سے اس میں تصرف کی قدرت اوراختیار حاصل ہوجائے اور کوئی مانع  نہ ہو۔ نیز اس بات پر بھی اتفاق  ہے کہ اشیاء کے مختلف  ہونے سے ان کے قبضہ کی کیفیت  بھی مختلف ہوتی ہے، یعنی ہر چیز میں مالکانہ تصرفات کا اختیار ملنے  کی کیفیت وہی ہوگی جواس کے مناسب ہو۔ (عبارت  نمبر ۳،۴،۵،۶)

اس اصولی بات  کے بعد واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنا رہائشی مکان (جس میں خود اوراس  کی اولاد رہائش پذیرہو یا اس کا سازوسامان اس میں موجود ہو) اپنے بیٹے یا بیٹی  کوہبہ  کرنا چاہے تو فقہاء کرام ؒ کی تصریح  کے مطابق وہ اگردرج  ذیل صورتوں میں سے کوئی صورت اختیار  کرے تواس کا  ہبہ درست ہوگا ، ورنہ نہیں ۔ کیونکہ یہ مشغول کا ہبہ ہے اور واہب کا سازوسامان اوراس کی اولاد ، موہوب لہٗ کے لیے تصرف  سے مانع  ہوتا ہے۔ لہذا یہ مکان بدستورواہب کی ملکیت میں رہے گا ۔ وہ صورتیں یہ ہیں :

۱۔ وہ اپنا یہ مکان اپنے ذاتی  سازوسامان سمیت بیٹے /بیٹی کو ہبہ کرے، نیز وہ خود اس کی اولاد وغیرہ بھی  تھوڑی دیر کےلیے گھر سے باہر چلے جائیں تا کہ موہوب لہٗ (جس کو ہبہ کیا جارہا ہے اس ) کا قبضہ شرعاً مکمل ہوجائے (عبارت نمبر۷)

۲۔اگر سامان ہبہ کرنا مقصود نہ ہو تو مکان سےا پناسامان نکال کرکسی دوسری جگہ عارضی  طور پر منتقل کردے اور موہوب لہٗ  کوخالی مکان عملاً مالک وقابض  بنا کردینے کے بعد اس کی اجازت سے سامان واپس لے آئے ۔ (عبارت نمبر۸)

۳۔ واہب اپنے سامان کے بارے میں وموہوب لہٗ سے کہہ دے کہ میرا یہ سامان تمھارے پاس عاریت یا ودیعت ہے ، اس کے بعد اسے مکان ہبہ کردے۔(عبارت نمبر9)

4۔یہ مکان موھوب لہ  کوفروخت  کرے اوراحتیاطاً قانونی طور پر بھی فروخت  کرنے کے کاغذات بنوادے،اس کے بعد اگر چاہے  تومکان کی قیمت  اسے معاف کردے ۔ (عبارت نمبر۱۰)

اب قابل غور بات یہ ہے کہ اگرکوئی شخص مذکورہ بالاصورتوں میں سے کوئی صورت اختیار نہ کرے  ، بلکہ محض سرکاری کاغذات میں موہوب لہٗ کے نام رجسٹریشن  کروادے تو کیا رجسٹریشن  قبضہ کے قائم مقام ہوکر ہبہ درست ہوگا یا نہیں ؟ اس کا جواب  یہ ہے کہ علی الاطلا ق ہر صورت میں محض رجسٹریشن کو قبضہ  کے قائم  مقام  کہنا تومشکل  ہے، اس لیے کہ بعض اوقات رجسٹریشن  بے نامی بھی ہوتی  ہے ۔ البتہ اگر اس کے ساتھ ایسے قوی قرائن  مل جائیں جن سے  یہ واضح  ہوکہ واہب  کا مقصد موہوب لہٗ کومالک بنانا اور تصرف کا مکمل اور قطعی  اختیار دینا ہے توا ن قرائن کی وجہ سے رجسٹریشن کواقتضاء ً مکان خالی کرکے دینے کے قائم مقام قراردیا جاسکتا ہے ۔ بشرطیکہ:

۱۔رجسٹریشن  سے پہلے یا رجسٹریشن  کے وقت زبانی یا تحریری مُثبت مِلک کوئی عقد کیا جائے مثلاً ہبہ یا بیع  وغیرہ۔ اورا س عقد  سے اثباتِ ملک مقصود بھی ہو ، یعنی کسی مصلحت کی وجہ سے محض نام کی کاروائی نہ ہو۔

۲۔رجسٹریشن کرواکر مکان کے کاغذات  موہوب لہُ کےحوالے کردئیے جائیں ۔

۳۔رجسٹریشن کے بعد واہب ، حقیقی  قبضہ دینے سے انکار نہ کرے  ۔

اگر ان شرائط  میں سے کوئی شرط نہ پائی جائے، مثلا ً(۱) واہب زبانی یا تحریری کوئی عقد نہ کرے یا عقد سے اثباتِ ملک مقصود نہ ہو ، بلکہ کسی مصلحت کی وجہ سے محض  کاروائی  ہو، (۲) یا رجسٹریشن کے بعد کاغذات موہوب لہُ  کےحوالے نہ کرے ، (۳)یا رجسٹریشن کے بعد حقیقی  قبضہ دینے سے انکارکردے توان صورتوں میں چونکہ شرعاً ضمان  موہوب لہٗ کی طرف  منتقل نہیں ہوتا اور بعض  صورتوں میں عُرفاً بھی مالکانہ  تصرف پر قادر نہیں سمجھا جاتا، اس لیے یہ رجسٹریشن قبضہ کےلیے کافی نہیں ہوگی ۔ ( اہم وضاحت : فقہ البیوع(۱/۴۰۲) میں حضرت مولانا مفتی  تقی عثمانی صاحب مدظلہم نے مسئلة التسجیل  پرکلام فرماتے ہوئے شیخ مصطفی زرقاء ؒ  کی رائے نقل  فرمائی ہے جنہوں نے رجسٹریشن  کو قبضہ کے قائم مقام قراردیا ہے اور ان کی رائے پر حضرت مدظلہم نے دواشکالات  فرمائے ہیں، اس کے بعد اپنارجحان  ظاہر فرمایاہے کہ تخلیہ کے بغیر محض رجسٹریشن  کواس قبضہ  کے قائم مقام نہیں قرار دیاجاسکتا جس سے ضمان منتقل ہوتا ہے۔ لیکن جوشرائط  اوپر لکھی گئی ہیں ان سے مذکورہ اشکالات کاجواب ہوجاتا ہے ۔ نیز حضرت مدظلہم نے زبانی وضاحت بھی فرمائی کہ یہ بحث  اس صورت سے متعلق  ہے جب  دارِموہوبہ یا مبیعہ پرمحض واہب یا بائع کا قبضہ ہو، موہوب لہُ ‘ یا مشتری  کا اس پرقبضہ  نہ ہو)

رجسٹریشن کےذریعہ مکان کے ہبہ کی دوصورتیں  اور ان کا شرعی حکم :

 اس تفصیل کے بعد صورت مسئولہ  کاحکم  یہ ہے کہ والد یا والدہ اپنی اولاد میں سے کسی  کو رجسٹریشن  کے ذریعہ مکان ہبہ کریں تواس کی دوصورتیں ہیں :

  • 1 مکان پرصرف والد یا والدہ کا ظاہری قبضہ ہو، یعنی وہ اپنے اہل وعیال اور سازوسامان کے ساتھ ا س میں رہائش پذیر ہوں، اور جس بیٹے /بیٹی کو ہبہ کیا جائے  اس کا اس مکان کے ظاہری قبضہ سے تعلق نہ ہو، یعنی موہوب لہُ اُس مکان  میں  نہ رہتا ہو بلکہ کسی اور مکان میں رہتا ہو۔

اس صورت میں جب تک فقہاء کرام ؒ  کے ذکرکردہ  طریقوں میں سے کوئی  طریقہ اختیار نہ کیاجائے تو ہبہ درست  نہیں ہوگا، کیونکہ رجسٹریشن  کو اقتضاء ً قبضہ کے قائم مقام اس وقت سمجھا جاتا ہے جب موہوب لہٗ اس میں مالکانہ تصرف  پر قادر ہو، جبکہ اس صورت  میں قانونی اعتبار سے بھی ہبہ کے بعد جائیداد  کا قبضہ موہوب لہ ٗ کومنتقل کرنا ضروری  ہے، جس سے معلوم ہوا کہ ایسا شخص قانوناً اس مکان میں تصرف  پر قادرنہیں ، لہذا تخلیہ نہ پائے جانے کی وجہ سے اس صورت میں رجسٹریشن شرائط  کے ساتھ بھی قبضہ کےلیے کافی نہیں ہوگی۔ (عبارت  نمبر۱۲،۱۱)

  • اولاد میں سے جس کو مکان ہبہ کیا جائے وہ اپنے والدین کے ساتھ اسی مکان میں رہائش پذیر ہو، (جسیے عموماً ہوتا ہے کہ والدین اپنے ساتھ رہائش پذیر بیٹے کو ہبہ کردیتے ہیں جبکہ وہ خود بھی اسی مکان میں رہ رہے ہوتے ہیں اور بیٹے کی بھی اسی مکان میں رہائش ہوتی ہے) ۔ یا شوہراپنی بیوی  کو وہ مکان ہبہ  کردے جس میں اس کے ساتھ  رہائش ہو۔

اس صورت میں اگر رجسٹریشن  میں انتقال ِملک کے قرائن  پائے جاتے ہوں، نیزاوپر ذکر کردہ شرائط بھی پائی جائیں توچونکہ عُرفاً اور قانوناً ایسے شخص کے لیے اس مکان میں مالکانہ تصرف سے کوئی مانع  نہیں ہے اس لیے اقتضاء ً یہ رجسٹریشن قبضہ  کے قائم مقام ہوجائے گی۔ اور انتقالِ ملک کا ایک قرینہ بھی ہے کہ والد یا والدہ اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرتے وقت  دوسری اولاد کواپنی مملوکہ اشیاء مثلاً نقدی رقم ،زیور ، گاڑی وغیرہ میں سے حصہ دیں اور کسی بیٹے یا بیٹی کو دوسروں کےحصوں کے بقدر  یا کچھ کم وزیادہ”مکان“ کی صورت میں دیں ۔

واضح رہے  کہ اس صورت میں اگرچہ واہب اورموہوب لہُ دونوں کا ظاہری قبضہ ہے  لیکن  گزشتہ شرائط کے ساتھ عقد ہبہ  اور رجسٹریشن کے بعد اب موہوب لہٗ کے قبضہ کو ترجیح  حاصل ہے،  کیونکہ قانوناً بھی اس صورت میں جائیداد کے ہبہ کی تکمیل  کےلیے محض اعلان  ہی کافی  ہے، جس سے قبضہ کےا نتقال اور جائیداد پرقبضہ چھوڑنے کی واضح نیت ظاہرہو۔ ( دیکھئے  قانون ہبہ ۱۹۰۸ء وقانون رجسٹری ۱۹۰۸ء )اورعُرفاً بھی اس صورت میں  موہوب لہُ  کے لیے واہب  کا وجود یا اس کا سامان تصرف سے مانع نہیں ہوتا، بالخصوص اگر ہبہ  کرنے والا والد یا والدہ بوڑھی اور موہوب لہُ کے زیر کفالت ہواور وہ موہوب لہ کے ماتحت اور غیر مختار  ہوکر موہوب لہُ کی اجازت سے وہاں رہائش رکھے تو اس صورت میں ان کا وجود اور ان کا سازوسامان بطریق اولیٰ موہوب لہُ کےلیے قبضہ کرنےسے مانع نہیں ہوگا۔

نیز اس صورت  میں موہوب لہُ  کا قبضہ قوی ہونے کی تائید کتاب البیوع میں زکر کردہ ایک مسئلہ سے بھی ہوتی ہے ، اور وہ یہ ہے کہ مبیع اگر بائع اور مشتری دونوں کے قبضہ میں ہو اور بائع زبانی یہ کہہ دے کہ میری طرف  سے رکاوٹ نہیں ہے تم قبضہ کرلو، توکیا یہ تخلیہ معتبر  ہوکر قبضہ شمار ہوگا یا نہیں ؟ یعنی بائع  کا ظاہری قبضہ بھی ختم ہونا( اور گھر کے سودے میں بائع کا گھر سے نکلنا) ضروری ہے یانہیں ؟ اس بارےمیں  فقہی جزئیات  دونوں طرح کی ملتی ہیں، بعض عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر بائع کا ظاہری قبضہ بھی ختم ہونا ضروری ہے ورنہ مشتری کا قبضہ معتبر  نہیں ہوگا، (عبارت نمبر۱۳)

جبکہ بعض عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر بائع کی طرف سے رکاوٹ  نہ ہوتو مشتری کا قبضہ قوی اور معتبر ہے اوربائع کے ظاہری قبضہ کو اس لیے مانع قرار نہیں دیا کہ زبانی طور پر قبضہ کی اجازت دیدنے کے بعد اس کا قبضہ  مشتری کے قبضہ کی بنسبت  کمزورہے۔ (عبارت نمبر۱۴) اور عبارات کے اس اختلاف  کی وجہ سے غالباً ایک اور اختلاف  ہے، اوروہ یہ کہ بائع کے گھر میں تخلیہ معتبر ہوتا ہے یانہیں ؟ حضرت امام ابویوسف ؒ  کے نزدیک یہ تخلیہ معتبر نہیں ، جبکہ حضرت امام محمد ؒ کے نزدیک یہ تخلیہ معتبرہے اور مال ہلاک  ہونے کی صورت میں مشتری کا نقصان سمجھا جائے گا، اور فتاویٰ ہندیہ میں اس قول کو مفتیٰ بہ لکھا ہے ۔ (واضح  رہے کہ تخلیہ کےلحاظ سے ہبہ اور بیع کا حکم ایک جیساہے) ( عبارت نمبر ۱۵،۱۶)

البتہ اس صورت میں ان فقہی عبارات سے اشکال  ہوسکتا ہے  جن میں صراحۃ ً واہب کے یا اس کے اہل اور سامان کے گھر میں ہوتے ہوئے مکان کے ہبہ کو غیر  معتبر قرار دیا گیا ہے، (عبارت  نمبر۱۷) لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ بظاہر وہاں واہب کا مالکانہ  طور پر اس طرح با اختیار ہوکر رہنا مراد ہے کہ وہ  یا اس کا سامان موہوب لہُ  کے لیے مالکانہ تصرف میں رکاوٹ  بنے، لیکن جہاں واہب  کاوجود یا اس کا سازوسامان  مالکانہ تصرف میں رکاوٹ  نہ بنے وہاں محض وجود یا سازوسامان کوہبہ سے مانع نہیں سمجھاجائے گا۔ چنانچہ  خود فقہاء کرام ؒ  نے ہبۃ المشغول کی بعض  ایسی صورتوں میں ہبہ  درست ہونے کا حکم لکھا ہے جہاں شاغل موہوب لہُ  کے تصرفات کے لیے مانع نہیں ہوتا، مثلا بیوی کا شوہرکو مکان ہبہ کرنا ، اسی طرح جب واہب کا سامان موہوب لہ کے پاس ودیعۃ ً یاعاریۃ ً یاغصباً رکھا ہوا ہواورمکان ہبہ کیا جائے ، یا مکان میں واہب اور موہوب لہُ  کے علاوہ کسی اور کاسامان ہو توان تمام صورتوں میں مکان مشغول ہونے کے باجوود ہبہ درست قراردیا گیا ہے ۔ (دیکھئے عبارت نمبر۲۰،۱۹،۱۸)

  • بدائع الصنائع ۔ (۶/۱۲۳)
  • المغنی ۔ابن قدامة (۴/۲۳۵)
  • فقه البیوع۔ (۱/۳۹۸)
  • بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع (۵/۲۴۴)
  • البحر الرائق ۔(۵/۲۶۸)
  • شرح المجلة للأتاسی(۳/۳۴۵)
  • درا لحکام فی شرح مجلة الأحکام لعلی حیدر (۱/۲۵۲)
  • لسان الحکام ۔(ص :۳۷۰)
  • الدرالمختار (۵/۶۹۲)
  • حاشیة ابن عابدین۔(۵/۶۸)
  • قانون ھبه ۱۹۰۸ ء بحواله محمد ن لاء قانون رجسٹری ۱۹۰۸ء

جائیداد ہبہ کرنے کی صورت میں قبضے کا انتقال درج ذیل صورتوں میں کیاجاسکتا ہے:

۱)اگر جائیداد ہبہ کرنے والے کے اپنے قبضے میں ہوتو اس کےلیے ضروری ہے کہ ہبہ کے بعد جائیداد کا قبضہ اس شخص کو منتقل کردے۔

۲)اگر ایسی جائیداد کرایہ داروں کے قبضے میں ہوتو کرایہ داروں کوہبہ کی اطلاع دے دینا اور جس کےحق میں ہبہ کیا گیا ہو اس کوکرایہ اداکرنے کی ہدایت  کردینا کافی ہے۔

۳)اگردونوں فریق ایسی جائیداد میں رہ رہے ہوں توایسی جائیداد کے ہبہ کی تکمیل کےلیے ہبہ کرنے والے کا اعلان ہی کافی ہے جس سے قبضے کے انتقال اورجائیداد پر قبضہ چھوڑنے کی واضح نیت ظاہر ہوتی ہو۔

12)  فقه البیوع ۔(۱/۳۹۸)

13) البحر الرائق (۵/۳۳۳)

14) المحیط  البرھاني فی الفقه النعمانی (۹/۲۳۹، ط :إدارۃ القرآن)

15) الفتاوی الھندیة (۳/۱۶)

16) الدرالمختار(۵/۶۹۰)

17)درالحکام فی شرح مجلة الأحکام (۲/۴۴۸)

18) غمز عیون البصائر فی شرح  الأشباہ والنظائر (۳/۸۶)

19) جامع الفصولین (۲/۳۱)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

محمد حذیفہ عفااللہ عنہ

دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی

۵/رجب المرجب ۱۴۴۰ھ

۱۳/مارچ ۔۲۰۱۹

الجواب صحیح

بندہ محمد تقی عثمانی عفی اللہ عنہ

۱۱۔۷۔۱۴۴۰ھ

محمد عبدالمنان عفی عنہ

۱۲/۷/۱۴۴۰ھ

20.3.2019

احقر محمود اشرف غفراللہ

۱۱/۷/۱۴۴۰ھ

19.3.2019

شاہ محمد تفضل  علی عفی عنہ

۱۲/۷/۱۴۴۰ھ

محمد یعقوب عفا اللہ عنہ

۱۲/۷/۱۴۴۰ھ

عربی حوالہ جات وپی ڈی ایف فائل میں فتویٰ حاصل کرنےکےلیےلنک پرکلک کریں :

https://www.facebook.com/groups/497276240641626/permalink/1062498224119422/

اپنا تبصرہ بھیجیں