گیم کھیلنے کی کون سی صورت جائز کون سی ناجائز

فتویٰ نمبر:605

سوال:  آپس میں مقابلوں کی مندرجہ ذیل صورتوں میں  سے   کون سی صورت جائز ہے  اور کون سی ناجائز  اور اگر  سب ہی ناجائز ہیں   تو کوئی   صورت  ہے جائز ہونے کی ؟

 1۔تین ٹیمیں  آپس میں 100/100 روپے جمع  کرتی ہیں  اور پہلے  دو ٹٰمیں کھیلتی ہیں  جو ہارتا ہے  ۔اس کا مقابلہ  تیسری ٹیم  سے ہوتا ہے  اس طرح  جو زیادہ میچ  جیتتا ہے یا جو فائنل  جیتتا ہے  مکمل رقم  300 اس کو ملا جاتے ہیں۔

2۔مذکورہ صورت میں  کوئی فرد  واحد یہ  کہے کہ میں مقابلے میں شریک  ہوجاتا ہوں  لیکن  میں نہ کچھ لوں گا نہ دونگا یہ جائز  ہے یا نہیں  ؟

3۔ دوسری صورت  مقابلے کی یہ ہوتی ہے کہ ایک ٹیم  کہتی ہے  دوسری ٹیم  کو آپ جیتے  تو ہم  آپ کو رقم  دیں گے اور ہارنے  پر کچھ نہیں لیں گے  لیکن ان دونوں  کا آپس میں مقابلہ ایک ایک سے برابرت ہوگیا   تو اب اگر یہ رقم  نہیں دیں گے  تو گناہ گار  ہوں گے ؟

4۔اسی مقابلے کی دوسری صورت یہ ہوتی  ہے کہ ٹیم  بتاتی نہیں  ہے کہ ہم یک طرفہ  کھیلیں گے  تو جب  وہ بتاتی  نہیں ہے تو  لہذآ ایک ایک   سے مقابلے  برابر  ہوگئے  تو  وہ ٹیم  نہ کچھ لیتی ہے نہ دیتی   ہے تو یہ جائز ہے یا نہیں  ؟

5۔اور ایک  مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ اگر فرد واحد  یہ کہے کہ  آپ جو میچ کھیل رہے ہیں ۔ اس میں تو شریک ہوں گا   یعنی  کہ کھیلوں گا  لئیکن   نہ ہارنے  پر کچھ دوں گا ۔نہ جیتنے   پر کچھ لوں گا۔

6۔ ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ  تین ٹیموں نے   رقم جمع کی  ۔  رقم  جمع کرنے  کے بعد  مقابلے شروع  ہوئے  ۔ان مقابلوں  کا جو خرچہ  ہے وہ اسی  رقم سے  پورا کیاجاتا  ہے اور جو رقم  بچ جاتی ہے  وہ مقابلہ   جیتنے  والی ٹیم  کو مکمل  مل جاتی ہے  تو کیا مقابلے  کی یہ صورت  جائز ہے  ؟

جواب:

1۔ یہ صورت جوئے پر مشتمل ہونمے کی وجہ سے جائز نہیں ۔ ( ھندیہ :324 رشیدیہ  )  

2۔گناہ  میں تعاون  کی وجہ  سے فرد  واحد  کی یہ شرکت  جائز نہیں  ۔

3۔مقابلے  کی یہ صورت  جائز ہے۔بشرطیکہ  انعام  کی رقم   معلوم  ہو  مجہول نہ ہو ۔ ( ھندیہ  5/325 وانظر  جواہر الفقہ  :354/6)

4۔مقابلے  کی مذکورہ  جائز صورت  میں اگر  سیریز جیتنے  پر رقم  دینے کی شرط لگی تھی  اور پھر  برابر  ہونے کی وجہ  سے  رقم  نہ دی  تو چونکہ  شرط اور  وعدہ خلاف ورزی  نہیں ہوئی  اس لیے اس میں گناہ نہیں ۔

5۔مقابلے  کی جائز صورتوں  میں فرد واحد  کا یہ طریقہ  جائز ہے  اور ناجائز صورتوں  میں ناجائز۔

6۔ مقابلے  کی یہ صؤرت  بھی جوے پر مشتمل  ہونے کی وجہ سے  جائز نہیں  ۔اس قسم   کے مقابلوں  کی شرعاً جائز صورتیں یہ ہیں  :

1۔ دو یا دو سے  زیادہ ٹیمیں   مقابلہ میں   شریک  ہوں ۔ جن میں سے کسی  کو کسی  سے لینا  دینا نہ  ہو بلکہ  حکومت  یا کسی  تیسرے شخص یا جماعت  کی طرف  جیتنے  والی ٹیم   کے لیے انعام  کی معلوم  رقم مقرر کی جائے  ۔ ( ھندیہ  :324 وانظر  جواہر  الفقہ  :2/354 )

2۔ یکطرفہ  شرط  کی وہ صورت  جو سوال  نمبر  2 میں مذکور  ہے ۔

3۔تین  یا تین  سے زائد  ٹیموں  کا مقابلہ ہو جن  میں ایک ٹیم ایسی  بھی  ہو جو رقم جمع  نہ کرائے   اور اس کے  بارے  میں یہ شرط  لگائی  جائے  کہ یہ ٹیم  اگر جیت گئی  تو جمع شدہ  ساری  معلوم رقم  اسے ملے گی   اور اگر دوسری ٹیم  جیتی    تو اس کے  ٹیم  کے ذمہ  کچھ  دینا نہیں   اور جمع شدہ   معلوم رقم  جیتنے   والی ٹیم   کو دی جائے  ۔ ( ھندیہ  :324/5)

4۔ تین یا تین سے زائد ٹیموں کا مقابلہ ہو جس میں  ایک ٹیم  ایسی   ہو جو اگر جیت  جائے   تو اس کو کچھ  نہ ملے  اور اگر بقیہ ٹیموں   میں سے  کوئی ٹیم   جیتے  تو اس کو وہ   معلوم رقم  ملے  ۔

آخری  دو صورتوں  میں  جو تیسری  ٹیم  مقابلہ  میں  شریک کی گئی  ہے ۔اس  کو حدیث  میں ” محلل”   کہاگیا ہے۔  ان دونوں صورتوں میں یہ بات  مشترک  ہے کہ اس ٹیم  کا معاملہ  نفع  نقصان  میں دائر  نہیں بلکہ  پہلی صورت  میں نفع  متعین  ہے اور دوسری  صورت  میں نقصان  کچھ  بھی نہیں  لیکن  ان دونوں  صورتوں  کے جائز ہونے  کی شرط   یہ ہے کہ تیسری  ٹیم کھیل  میں   دوسری ٹیموں  کے ہم پلہ  معیار  رکھتی  ہو جس کی وجہ  سے اس کے جیتنے اور ہارنے  دونوں  کا احتمال   برابر  ہو۔لہذآ اگر یہ ٹیم نہایت کمزور ہو کہ  اس کا ہارنا یقینی  ہو نہایت  مضبوط ہو کہ جیتنا یقینی  ہو تو یہ صورتیں  جائز  نہ ہوں گی  ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں