میزان ڈیلی انوسٹمنٹ میں پیسے رکھنا اور اس سے منافع لینا

کیا میزان ڈیلی انوسٹمنٹ میں پیسے رکھنا اور اس سے منافع لینا صحیح ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب
ہماری معلومات کے مطابق میزان بینک کے مالی معاملات کی نگرانی وہاں کے شریعہ بورڈ میں موجود علماء کرام کررہے ہیں۔ لہذا جب تک بینک ان علماء کرام کی نگرانی اور مشاورت میں کام کررہا ہے اور آپ کو بھی ان علماء کے علم اور دیانتداری پر اعتماد ہے، اس وقت تک آپ کے لیے اس بینک سے معاملات(میزان ڈیلی انوسٹمنٹ)کرنا درست ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔ اگر بنک کو اسلامی طریقے سے چلایا جائے تو “امانت داروں” کے ساتھ بنک شرکت یا مضاربت کا معاملہ کریگا۔ اس طریقے سے وہ رقم قرض نہیں ہوگی، بلکہ اب صورتحال یہ ہوگی کہ رقم رلھوانے والے “رب المال” ہونگے اور بنک مضارب ہوگا اور لگایا ہوا سرمایہ “رأس المال” ہوگا، جس پر بنک کسی خاص شرح سے نفع دینے کا پابند نہیں ہوگا۔ بلکہ جو کچھ نفع حاصل ہوگا وہ ایک طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم ہوگا۔
(اسلام اور جدید معیشت و تجارت: 135)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
24 ربیع الثانی 1445ھ
9 نومبر 2023ء

اپنا تبصرہ بھیجیں