قربانی کے جانور کو خصی کرانا

سوال :السلام علیکم !
قربانی کے جانور کو مشین سے بدھی( خصی ) کرانا جائز ہے؟
الجواب باسم‌‌ ملھم الصواب
وعلیکم السلام !
جائز ہے۔ بس اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جانور کو تکلیف کم سے کم ہو-
__________________
حواله جات
1 : عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ:‏‏‏‏ ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الذَّبْحِ كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مُوجَأَيْنِ،

(سنن ابي داؤد: 2795)
ترجمہ :حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے قربانی کے دن دو مینڈھے ذبح کیے جو سینگوں والے ‘ چتکبرے اور خصی تھے-
2 : أقول: الأحاديث نص في جواز التضحية بالخصى. والأمر مجمع عليه، والمعنى فيه أن الخصاء والوجاء لا يحدث فيه عيبا، بل يزيد اللحم سمنا وطيبا، والله أعلم.
(اعلاء السنن :17/251)

3: خصی جانور کی قربانی درست ہے خواہ عضو چیر کر نکال دیا ہو یا مل کر بیکار کر دیا ہو –
(امداد الفتاوى: 8/234)

4 :”والخصي أفضل؛ من الفحل لأنه أطيب لحمًا، كذا في المحيط“۔

(الفتاوی الهندیة، کتاب الأضحیة، الباب الخامس 5/299، ط: رشیدیه)
واللہ اعلم بالصواب

27 رجب 1443
19 فروری 2023

اپنا تبصرہ بھیجیں