غسل جمعہ وعیدین کا انتہائے وقت

فتویٰ نمبر:967

سوال: محترم جناب مفتیان کرام! 

السلام علیکم 

کیا جمعہ کے غسل کا طریقہ بھی فرض غسل کی طرح ہوتا ہے؟ 

اور دوسرا یہ کہ خواتین کے لیے بھی جمعے کے دن غسل کرنا سنت ہے؟ اگر سنت ہے تو اس کا انتہاء وقت کب تک ہے کہ یہ غسل جمعہ شمار ہو؟ 

تیسرا سوال یہ کہ عید کے دن بھی غسل کرنا اگر سنت ہے تو اس کا انتہاء وقت کب تک ہے ؟

الجواب حامدۃو مصلية

جمعہ کے دن غسل کرنا مسنون و مستحب ہے۔ غسل كرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ پہلے ہاتھ دھوئےاور استنجا کرے، پھر بدن پر کسی جگہ نجاست لگی ہو، اُسے دھو ڈالے، پھر وضو کرے، اسی درمیان منہ اور ناک میں تین باراچھی طرح پانی ڈالے پھر تمام بدن کو تھوڑا سا پانی ڈال کر ملے، پھر سارے بدن پر تین مرتبہ پانی بہالے ، مسنون غسل اور فرض غسل میں فرق یہ ہے کہ فرض غسل میں بال برابر جگہ خشک رہ جائے تو غسل نہیں ہوتا اور مسنون غسل میں غسل ہوجاتاہے ۔

۲۔ غسل جمعہ چونکہ نماز جمعہ کے لیے مشروع کیا گیا ہے لہذا ایسے لوگ جن پر جمعہ کی نماز نہیں ہے جیسے مسافر ، خواتین وغیرہ ان کے لیے جمعہ کے دن غسل کرنا مسنون نہیں ہے ، لیکن ان کے لیے بہتر یہ ہے کہ غسل کرلیں۔

جہاں تک غسل کےانتہائے وقت کا جوتعلق ہے توچونکہ نماز جمعہ کے لئے غسل کرنا مسنون ہے اور یہ سنت صحیح قول کے مطابق نماز سے قبل غسل کرنے ہی سے حاصل ہوگی۔

۳۔ اسی طرح عیدین کے لیے بھی غسل کرنا مسنون ومستحب ہے اور یہ غسل بھی نماز عیدکے ساتھ خاص ہے لہذا نماز عید سے پہلے غسل کرلیا جائےتب ہی غسل مسنون کہلائے گا۔

“واربعۃ سنۃ وھی غسل یوم الجمعۃ ویوم العیدین ویوم عرفۃ وعند الاحرام”

( الھندیۃ : ۱۶/۱)

“وسن لصلوٰۃ جمعۃ ولصلٰوۃ (عید) ھو الصحیح کما فی غرر الاذکار وغیرہ… (و) لاجل (احرام و) فی جبل (عرفۃ) بعد الزوال”

(الدر المختار : ۱۶۸/۱)

”قولہ وسننہ ان یغسل یدیہ وفرجہ ونجاسة لوکانت علی بدنہ ثم یتوضأ ثم یفیض الماء علی بدنہ ثلاثا … “

(البحرالرائق : ۱/۹۳)

“ثم غسل الجمعۃ للصلاۃ عندأبي یوسف ؒ وھوالأصح وللیوم عندحسن بن زیادحتیٰ لولم یصل بہٖ ینال ثواب الغسل إذاوجدفي الیوم عندالحسن لا عندأبي یوسف ؒ ومن لاجمعۃ علیہٖ یندب لہ الغسل عندالحسن لاعندأبي یوسف”

(کبیري:۵۵)

“وسن لصلاۃ جمعۃ ولصلاۃ عیدھوالصحیح أي کونہ للصلاۃ ھو الصحیح وھوظاہرالروایۃ”

(الدرالمختارمع الرد:۱؍۱۱۳)

“وفی الخانیۃ: لو اغتسل بعد صلوٰۃ الجمعۃ لا یعتبر إجماعاً۔”

(درمختار: ۱؍۲۷۶-۲۷۷)

و اللہ سبحانه اعلم

بقلم :بنت محمود 

قمری تاریخ:23 شوال ،١٤٣٩ھ

عیسوی تاریخ:7جولائي،٢٠١٨ء

تصحیح وتصویب:مفتی انس عبدالرحیم صاحب

ہمارا فیس بک پیج دیکھیے. 

فیس بک:

https://m.facebook.com/suffah1/

ہمارا ٹوئیٹر اکاؤنٹ جوائن کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں. 

ٹوئیٹراکاؤنٹ لنک

https://twitter.com/SUFFAHPK

ہماری ویب سائٹ سے وابستہ رہنے کے لیے کلک کریں:

www.suffahpk.com

ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں:

https://www.youtube.com/channel/UCMq4IbrYcyjwOMAdIJu2g6A

اپنا تبصرہ بھیجیں