قرآن بھول جانے کی کیا وعید ہے؟

سوال: محترم جناب مفتیان کرام!
السلام علیکم و رحمۃ الله و بركاته!

جو حفظ بھلا دینے والی احادیث ہیں کیا وہ سب ضیعف ہیں یاکوئی صحیح حدیث بھی ہے۔

الجواب باسم ملہم الصواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

قران کریم کی حفظ کر کے بھول جانے کی وعید پر صحیح اور ضعیف دونوں طرح کی احادیث آئی ہیں ۔ البتہ جن حدیثوں میں بھول جانے کا ذکرہے تو وہاں بعض علماء نے فرمایا ہے۔
ملا علی قاری رحمہ اللہ لم ینسه کی تشریح کرتے ہوۓ فرماتے ہیں۔
بالنظر عندنا و بالغيب عند الشافعى اوالمعنى ثمُ یترك قراءته نسى او ما نسي۔

ترجمہ:احناف کے نزدیک دیکھ کر بھی نہ پڑھ سکے۔امام شافعی کے نزدیک قرآن پڑھنا چھوڑ دے اسے یاد ہو یا نہ ہو۔

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک
وعید اس شخص پر ہے جو ناظرہ پڑھنے کی اہلیت بھی اپنی لا پرواہی کیُوجہ سے ختم کر دے۔
اگر کوئی شخص قرآن مسلسل یاد کر رہا ہواور حافظہ کی کمزوری کی وجہ سے یاد نہ رکھ پا رہا ہو تو وہ اس وعید سے ان شاء اللہ محفوظ رہے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات
قال الله تعالى:
1-كَذَلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنْسَى﴾» [سورہ طه:126: 20]
”جس طرح(دنیا میں) تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں تو تو نے وہ بھلا دیں اور اسی طرح آج (قیامت کے دن) تجھے بھی بھلا دیا جائے گا۔“

2- قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” بئسما لاحدهم يقول: نسيت آية كيت وكيت، بل هو نسي، استذكروا القرآن، فلهو اشد تفصيا، من صدور الرجال، من النعم
مِنْ عُقُلِهِ .
( سنن الترمذی :أَبْوَابُ الْقِرَاءَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم.
2942 (المجلد : 5 الصفحة : 57)”. “.هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ:‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت برا ہے ان میں سے وہ جو یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بھلا دیا گیا اور قرآن کا خیال اور یاداشت رکھو کہ وہ لوگوں کے سینوں سے ان چارپایوں سے زیادہ بھاگنے والا ہے جن کی ایک ٹانگ بندھی ہو۔“

3-“عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «عرضت علي أجور أمتي حتى القذاة يخرجها الرجل من المسجد، وعرضت علي ذنوب أمتي، فلم أر ذنباً أعظم من سورة من القرآن أو آية أوتيها رجل ثم نسيها»
(سنن ابى داؤد،كِتَابُ الصَّلَاةِ ، بَابٌ : فِي كَنْسِ الْمَسْجِدِ ،ضیعف)

ترجمہ:”حضرت انس بن مالک رضي اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے میری امت کے اَجر و ثواب پیش کئے گئے یہاں تک کہ وہ کوڑا کرکٹ بھی جو آدمی مسجد سے نکالتا ہے (اس کا ثواب بھی پیش کیا گیا)۔ اور مجھ پر میری اُمت کے گناہ پیش کئے گئے تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ قرآن کی کوئی سورت یا کوئی آیت کسی آدمی کو (یاد کرنے کی توفیق) دی گئی اور پھر اس نے اسے بھلا دیا۔“
4-ملا علی قاری :ان بالنظر عندنا و بالغيب عند الشافعى اوالمعنى ثمُ یترك قراءته نسى او ما نسي:
‏(‎مرقاة المفاتيح: قديمي كتب خانه:(2:61)
5-والنسیان عندنا أن لایقدر بالنظر۔ (بذل المجہود ملتان266/1)

6-قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ فِي الْمُصْحَفِ أَوْلَى مِنْ الْقِرَاءَةِ عَنْ ظَهْرِ الْقَلْبِ، إذَا حَفِظَ الْإِنْسَانُ الْقُرْآنَ ثُمَّ نَسِيَهُ فَإِنَّهُ يَأْثَمُ، وَتَفْسِيرُ النِّسْيَانِ أَنْ لَا يُمْكِنُهُ.
(الحلبي الكبير: 498)

فقط
واللہ اعلم بالصواب
18 رجب 1444ھ
9 فرورى 2023

اپنا تبصرہ بھیجیں