لاؤڈ اسپیکر پر نعت لگانا،اور نعت گانے کی طرز پر پڑھنے کا حکم

الجواب حامداومصلیا ً

مسجدوں یا جلسوں میں ضرورت سے زائد اتنی بلند آواز سے لاؤڈ اسپیکر چلانا جس سے دوسرے کاموں میں مشغول لوگوں کے کام یا آرام میں یا گھروں میں موجود خواتین کی عبادات وغیرہ میں حرج ہوہرگزدرست نہیں ،ا ور اگرا س سے گھروں یا ہسپتالوں میں مریضوں وغیرہ کوتکلیف ہوتو ایسی صورت میں یہ عمل جائزنہیں ،ا س لیے ضرورت سے زائد بہت بلند آوازکے لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے سےبہرحال اجتناب کرنا ضروری ہے ۔

2) حمد ونعت کے اشعار پڑھنےمیں  خوش آوازی اور حسن صوت پیدا کرنے کے لیے آوازمیں مناسب اتارچڑھاؤ، ترنم ، آواز کوباریک کرنا اور لہرانا وغیرہ امور شرعاًمباح ہیں ان میں کچھ حرج نہیں ،لیکن جان بوجھ کر اپنے ارادہ واختیار سے کسی معروف گانے کے ہم وزن قافیہ، حمدیہ ونعتیہ اشعار بناکراسی گانے کی طرز پر پڑھنا جس سے عام لوگوں کا ذہن اس گانے کی طرف جائے، حمد ونعت کے مقدس کام کی بے ادبی اورا س کی شان کے خلاف ہے،ا ورچونکہ ایساکرنے میں تشبہ بالفساق بھی ہے اس لیے اوربھی زیادہ قبیح ہے جس سے اجتناب کرنا ضروری ہے ،ا لبتہ اگر غیر اختیاری طورپرآوازکو خوبصورت بناتے ہوئے کسی گانے کی طرز بن جائے یا اس کے مشابہ ہوجائے تویہ فی نفسہ جائز ہے لیکن مشابہت سے بچنا بھی بہتر ہے ۔ ( ماخذہ التبویب  بتغیر 18/869)

3) اگرکوئی ایک مصرعہ اتفاقاًگانے کی طرزپرہو باقی ساری نعت کی اپنی علیحدہ طرز ہوتواس کی گنجائش ہے تاہم اس سے بھی بچنا بہتر ہے ۔

فی الدر المختار  ( 6/348)

پی ڈی ایف فائل میں فتوی حاصل کرنے لیے لنک پر کلک کریں :

https://www.facebook.com/groups/497276240641626/580166205685962/

اپنا تبصرہ بھیجیں