قصہ اصحاب الرس 

تقریباً 430ق م یا مدت نامعلوم

رس: رس عربی زبان میں کچے کنویں کوکہاجاتاہے جوپختہ  نہ ہوقرآن اور صحیح  حدیث میں ان لوگوں کے تفصیلی حالات مذکور نہیں البتہ  اسرائیلی روایات مختلف ہیں ۔ راجح قول ہے کہ یہ یمامہ کے علاقہ میںکوئی شہرتھا۔ موجودہ نقشہ میں یہ شہر وادی دمہ کے علاقہ میں ملتاہے طول البلد مشرقی 43۔عرض والبلد شمالی 26۔

( جغرافیہ قرآنی ،عنوان :رس)

اصحاب الرس :۔ راجح یہ ہے کہ  اصحاب الرس سے مراد قوم ثمودکے باقی ماندہ لوگ ہیں  جوعذاب کےبعد باقی ماندہ لوگ ہیں جوعذاب کے بعد باقی رہے مفسرین کے مطابق جب حضرت صالح علیہ السلام  ( ثمود) کی قوم پر عذاب  آیاتوان میں سے چار ہزار آدمی جوحضرت صالح ؑپر ایمان لاچکےتھے ۔ عذاب سے محفوظ رہے ۔ یہ لوگ اپنےمقام سے منتقل ہوکر حضر موت جاکرمقیم ہوگئے اورایک کنویں پرجاکر ٹھہرگئے ۔حضرت صالح ؑبھی ان کے ساتھ تھے ،وہیں حضرت صالح ؑکی وفات ہوگئی ۔اس لیے اس جگہ کانام حضر موت ( یعنی موت حاضر ہوگئی ) ہے ۔ ( بیان القرآن )

ابن عباس رضی اللہ عنہ  کاقول ہے کہ یہ ثمودیوں کی بستی والےتھے ۔ عکرمہ رضی اللہ عنہ  فرماتےہیں کہ یہ خلیج  والےتھے جن کاذکر سورہ یاسین  میں ہے ۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائی جان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی ۔

عکرمہ  فرماتے ہیں ان کوکنویں والے اس لیے کہاجاتاہے کیونکہ انہوں نے اپنےپیغمبرکوکنویں میں ڈال دیاتھا۔

قرآن عزیز اوراصحاب الرس :قرآن عزیز نے سورہ فرقان اور “ق” میں ان کاذکر کیاہے اورجن قوموں نے انبیاء علیہم السلام کی تکذیب  واستہزاء کے سبب ہلاکت  وتباہی  مول لی ۔ان کی فہرست میں صرف ان کانام بیان کردیاہے اورحالات واقعات  سے کوئی تغرض نہیں کیا۔

( سورۃ الفرقان آیت 38 ، سورۃ  ق آیت ،12،13،14)

اصحاب الرس کابابرکت  کنواں :

سہیلی نے اپنی کتاب  “التعریف  والاعلام ” میں لکھا ہے کہ قرآن پاک کی آیت  وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ کی تفسیر میں لکھا کہ ” رس ” ہی وہ کنواں ہے جواس آیت میں مذکور ہ ہے  اوریہ کنواں عدن میں تھا،اوران لوگوں کی ملکیت  میں تھا۔ جوہلاک شدہ فوج ثمود  کے باقی ماندہ افرادتھے ۔ا س قوم کابادشاہ  علس ” بہت  ہی خوش خلقی  اورمنصف  مزاج تھا۔اس کنویں سے پورا شہر بمع مال مویشی  کے سیراب ہوتاتھا۔ یہ کنواں ان کے لیے  بہت بابرکت  تھااور بہت سے لوگ اس کی پاسبانی کے لیے مامورتھے ۔اس پرسنگ رخام کے بہت بڑے برتن  رکھےہوئے تھے ، جوحوضوں کاکام دیتےتھے اورلوگ ان میں پانی بھربھر کرکواپنے گھروں کولے جانے تھے  ، غرض  کہ یہ کنواں ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑاانعام تھا۔اس کنویں کے علاوہ ان کے یہاں اورکوئی چشمہ وغیرہ نہیں تھا۔

 

اصحاب الرس کی گمراہی :

اس بادشاہ ( عکس ) کی عمرطویل ہوئی جب وہ فوت ہوا تواس کی قوم نے اس کی لاش پر ایک قسم کاروغن  ملاتاکہ وہ گلنے اورسڑنے سےمحفوظ رہے ،کیونکہ ان لوگوں کایہ دستورتھا کہ جب کبھی ان کے یہاں کوئی مقررشخص مرجاتا تویہ لوگ اس کی لاش اس طریقے  سے محفوظ رکھتےتھے ۔اس بادشاہ کامرنابہت شاق گزرا، کیونکہ اس بادشاہ کےمرنے کے بعد ان کاانتظام  سلطنت  درہم برہم ہونے لگا۔ چنانچہ  سلطنت کی یہ حالت  یہ دیکھ  کروہ قوم رونے پیٹنے لگے ۔ چنانچہ  شیطان ملعون کو اس قوم کو گمراہ کرنے کااچھاموقع ہاتھ آیا ۔شیطان  مردود بادشاہ کی لاش میں دلدل کرکے کہنےلگا کہ :

” میں مرانہیں ہوں اورنہ کبھی  مروں گا بلکہ میرے  اورتمہارے درمیان  ایک ظاہری حجاب  ہوگیاہےتاکہ میں دیکھوں کہ تم لوگ میری عدم وجودگی  میں کیاکرتے ہو ؟ “

یہ آواز سن کر بہت خوش ہوئے اوران میں سے جولوگ ممتازتھے ان کے اشارے سے انہوں نے بادشاہ اورلوگوں کے درمیان ایک پردہ ڈال دیا تاکہ وہ پردے کے پیچھے ان سے بولتارہے ۔اس کے بعد قوم نے ا س بادشاہ  کا ایک بت بناکر پردے کے پیچھے لاش کےمتصل رکھ دیااورپھر اس بت سے یہ آواز آنے لگی کہ میں نہ کھاتاہوں اورنہ پیتاہوں اورنہ کبھی مجھ کوموت آئے گی ۔ا ورمیں ہی تمہارا معبود ہوں ۔ مگر یہ سب شرارت شیطان کی تھی جوبادشاہ  کے مردہ جسم میں دلول کرگیاتھا اوربادشاہ کے لہجے میں ان سے ہم کلام ہوتاتھا۔اس طرح کافی لوگوں کی تعداداس کی تصدیق کرنے لگے کچھ ایسے بھی تھے جواس کوشیطانی ڈونگ کہتےتھے ۔مگران لوگوں کی تعداد قلیل تھی ۔مگر جب کوئی خداالرس مومن ان کوسمجھاتاکہ یہ شیطان ڈھونگ ہے آپ اس کی تصدیق نہ کریں۔اس پر یہ لوگ اس کوڈانٹ ڈپٹ کرخاموش کردیتےتھے ،چنانچہ دھیرے دھیرے اس قوم میں کفراور بت پرستی کاآغاز ہوااورجب اس قوم کی سرکشی حد سے بڑھ گئی توحق تعالیٰ نے ان کی طرف ایک نبی کومبعوث فرمایا۔ جس پرخواب میں وحی نازل ہوتی تھی ۔ یہ نبی حضرت حنظلہ بن صفوان علیہ السلام تھے ۔ آپ نے اس قوم کوبہت سمجھایا کہ اس بت کے اندر روح نہیں ہے بلکہ شیطان  اس کے اندرسے بولتاہے  اوریہ حق تعالیٰ کسی مخلوق میں ظاہر نہیں ہوتا۔ لہذا تمہارا یہ مردہ بادشاہ ہرگزہرگز خداکی خدائی میں شریک نہیں ہوسکتا۔ آپ نے ہرچندان لوگوں کونصیحت فرمائی مگریہ نصیحت کارگرنہ ہوئی  بلکہ یہ قوم الٹی آپ کی دشمن بن گئی اورآپ کواذیتیں دینے لگے اس کےبعد آپ کی قوم نے آپ کوشہید کردیاجس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ا س قوم پرعذاب نازل فرمایا اوروہ اس طرح کہ جب شام کویہ قوم کھاپی کر آرام سے سوگئی ۔تواللہ تعالیٰ نے کنویں کوخشک کردیا صبح جب لوگ جاگے توان کویہ حل معلوم ہوااورآخر نتیجہ یہ ہواکہ پوری قوم مع مویشیوں کے پیاس سے تڑپ تڑپ کرمرگئے اور پوری بستی  درندوں کامسکن بن گئی اوربجائے انسانوں کے وہاں شیروں اورجنوں کی آوازیں آنے لگیں اورتمام باغات خاردار جھاڑیوں میں تبدیل ہوگئے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں